پاکستانی فوج: ’ جنگ کے لیے تیار ہے لیکن ہم نے امن کا راستہ چنا ہے‘

.پاکستانی فوج: ’ جنگ کے لیے تیار ہے لیکن ہم نے امن کا راستہ چنا ہے‘

پاکستانی فوج نے انڈین فوج کے سربراہ کے ایک بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم جنگ کے لیے تیار ہیں لیکن پاکستانی عوام، ہمسایوں اور خطے کے مفاد میں امن کا راستہ چنتے ہیں۔‘

انڈین اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق انڈین فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’انھیں ان کی ہی زبان میں جواب دینا چاہیے، ان کی طرح بربریت نہیں لیکن میرے خیال میں انھیں بھی وہی تکلیف محسوس ہونا چاہیے۔‘

انڈین آرمی چیف بپن راوت کا یہ بیان پاکستان وزیراعظم عمران خان کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالیہ مـجوزہ وزرائے خارجہ سطح کی ملاقات کی منسوخی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے انڈین رویے کو ’منفی اور متکبرانہ‘ قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں!

انڈیا کا رویہ متکبرانہ اور منفی ہے : عمران خان

’انڈیا کا بیان مہذب دنیا اور سفارتی روابط کے منافی‘

کشمیر کا وہ یتیم بچہ

سنیچر کو نجی ٹی دنیا نیوز سے بات کرتے ہوئے پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ’ہمیں امن کی قیمت کا علم ہے جو ہم نے ادا کی ہے۔‘

میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ انڈیا کی حکومت کرپشن کے الزامات اور ملکی سیاست میں گھری ہوئی ہے لہذا انھوں نے پاکستان دشمنی کا بیانیہ اختیار کیا ہے۔

پاکستان نے گذشتہ دو دہائیوں میں امن قائم کیا ہے اور ’ہمیں معلوم ہے کہ امن کی قیمت کیا ہے اور اسی تناظر میں پاکستان کے نئے وزیراعظم نے امن کی پیشکش کی تھی جسے انھوں نے قبول بھی کیا تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد انڈیا کی جانب سے بارڈر سکیورٹی فورس کے ایک اہلکار کی لاش مسخ کرنے کا الزام عائد کیا جسے مسترد کیا گیا ہے۔ ’ہم کسی بھی فوجی کی بے حرمتی نہیں کر سکتے خواہ وہ دشمن ملک کا ہو۔‘

انڈین فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت کے بیان کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک غیر ذمہ دارانہ بیان ہے۔ ہم جنگ کے لیے تیار ہیں لیکن ہم نے امن کا راستہ اختیار کیا ہے اور یہ بات انڈیا اور ان کے آرمی چیف کو سمجھنا چاہیے کہ اس امن کو خراب نہیں کرنا، ہم نے اس امن کو آگے لے کر چلنا ہے۔‘

’اگر امن رہے گا تو پاکستان بھی ترقی کرے گا، انڈیا بھی ترقی کرے گا اور خطہ بھی ترقی کرے گا۔ کسی کی امن کی خواہش کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہیے۔‘

Leave a Reply